So far, No matter how you put…
Syria, Iraq, Yemen, Libya, Afghanistan and Pakistan have been destroyed by US…
As far as American Muslims are concerned, i really hope that Japanese Episode is not repeated here…i really hope that sanity prevails and US establishment stop acting like an idiot…
If US administration thinks ( not necessary that what they think is correct) immigrants are not needed or they are occupying their space, simply give them line and they’ll leave to new world and US can live happily ever after…
Always remember, US is US because of the immigrants, be it by force ( African-American) or new immigratiom policy called the American Dream.
جو راۓ دہندگان خطے ميں امريکی کاوشوں کو “مداخلت” سے تعبير کرتے ہيں انھيں چاہيے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سامنے آنے والی ان خبروں کو بھی ملحوظ رکھيں جن ميں عراقی حکومت نے متعدد بار امريکہ سے داعش کے خلاف جاری جنگ ميں معاونت کی اپيل کی ہے۔
****کيا آّپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ عراق کی حکومت کی جانب سے مدد کی ان درخواستوں کے بعد امريکی ردعمل اور امداد کو خطے ميں بے جا مداخلت کہا جا سکتا ہے – خاص طور پر اس تناظر ميں جبکہ امريکہ 68 ممالک کے اس عالمی اتحاد کا محض ايک جزو ہے جس نے داعش کے مشترکہ خطرے کے خلاف کاوشوں کا اعلان کيا ہے؟
If illegimate child of US, i .e. DAESH is going to bug others on behest of US, then IRaq have to make complain to US…so the nemesis can be contained and controlled…
DAESH couldn’t survive without help and support of Isreal and US…
Most Importantly, despite “heavy” and “brutal” bombardment…DAESH is still there, thanks to Russia who have contained it a little
کچھ راۓ دہندگان کے ليے يہ نہايت آسان ہے کہ مختلف عالمی معاملات کے ضمن ميں اپنی مخصوص سياسی سوچ کی تسکين کے ليے يک طرفہ اور مکمل طور پر ناقابل فہم بيانات جاری کر ديں۔ يہ دعوی کرنا کہ ہم دنيا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم کو اسلحہ يا کسی بھی قسم کا تعاون فراہم کر رہے ہيں جبکہ ہماری جانب سے اس تنظيم کی پناہگاہوں پر روزانہ فضائ حملے بھی کيے جا رہے ہيں، ناقابل فہم ہے۔
اس ضمن ميں چند حقائق پيش ہیں۔
اگست 2014 ميں آئ ايس آئ ايس کے محفوظ ٹھکانوں پر امريکی فضائ حملوں کی مہم کا آغاز کيا گيا۔ ان کاوشوں ميں اب تک امريکی
محکمہ دفاع قريب 7۔2 بلين ڈالرز خرچ کر چکی ہے جو يوميہ نو ملين ڈالرز کے قريب بنتا ہے۔ علاوہ ازيں سال 2015 ميں يہ تخمينہ
روزانہ قريب 14 ملين ڈالرز تک پہنچ گيا۔
ان کاوشوں کے نتيجے ميں، قريب نو ماہ کے دوران 6200 مقامات کو نشانہ بنايا گيا۔ کل اخراجات کا دو تہائ يعنی 8۔1 بلين ڈالرز امريکہ فضائيہ کی جانب سے کيا گيا جو يوميہ قريب پانچ ملين ڈالرز آئ ايس آئ ايس کو غير فعال کرنے کے ليے خرچ کر رہی ہے۔
امريکی فضائ حملوں کے نتيجے ميں جولائ 2015 تک قريب 15 ہزار آئ ايس آئ ايس کے جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصديق کر دی گئ اور اب تک يہ تعداد قريب بيس ہزار کے قريب پہنچ چکی ہے۔
امريکہ کی جانب سے مسلسل فضائ حملے آئ ايس آئ ايس پر دباؤ بڑھانے کا سبب بن رہے ہيں جس کا نتيجہ يہ ہے کہ يہ گروہ اب اپنے
روابط، نقل وحرکت اور مختلف علاقوں پر اپنی گرفت کو برقرار رکھنے کے ليے اتنا آزاد نہيں ہے جتنا کہ پہلے تھا
يہ ايک انتہائ لغو دعوی ہے کہ ہم ايک ايسی تنظيم کو کسی بھی قسم کا تعاون فراہم کريں گے جس نے اپنے پورے نظريے کو امريکہ کے
خلاف نفرت پھيلانے کی بنياد پر تشکيل ديا ہے۔ ايک ايسے گروہ کو مستحکم کرنے کے ليے ہم کيوں کاوشيں کريں گے جو اس وعدے اور سوچ کے ساتھ ايک پوری فوج کی تشکيل، تربيت اور بھرتی کے کام ميں لگا ہوا ہے کہ نا صرف خطے ميں بلکہ پوری دنيا ميں ہماری
سيکورٹی کو ٹارگٹ کيا جاۓ گا۔
ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کر دوں کہ امريکی حکومت نے آئ ايس آئ ايس کو دہشت گرد تنظيم قرار دے ديا ہے۔ يہ اعلان مئ 14
2014 کو کيا گيا۔ اس کی تفصيل آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔ We’re sorry, that page can’t be found.
جب آپ داعش کے وسائل اور ان ذرائع کا ذکر کرتے ہيں جن کے توسط يہ دہشت گرد تنطيم علاقے ميں فعال ہے اور بدستور دہشت گرد کاروائياں کرنے ميں کامياب ہے، تو پھر آپ اس حقيقت کا اداراک بھی کريں کہ بے شمار ديگر دہشت گرد تنظيموں کے برعکس داعش عراق اور شام ميں مختلف علاقوں اور زمينوں پر قبضہ جماۓ ہوۓ ہے۔
اگرچہ اب بيشتر علاقہ ان کے قبضے سے نکلتا جا رہا ہے، تاہم اس تناظر ميں يہ کوئ حيران کن امر نہيں ہے کہ آئ ايس آئ ايس نے دنيا کی امير ترين دہشت گرد تنطيم کا “اعزاز” حاصل کر ليا ہے اور اس کی بڑی وجہ اس تنظيم کے زير تسلط علاقوں ميں منظم لوٹ مار اور وسائل پر بے دريخ قبضہ ہے جو ان کی حکمت عملی کا اہم حصہ رہا ہے۔
اکتوبر 2015 ميں امريکی محکمہ خزانہ کے دہشت گردی اور مالی اينٹيلی جينس سے متعلق انڈر سيکرٹری نے بھی اسی بات کو اجاگر کيا تھا اور يہ واضح کيا تھا کہ “مالی وسائل کے اعتبار سے داعش شايد اب تک کی سب سے زيادہ فعال دہشت گرد تنظيم کے طور پر سامنے آئ ہے”۔ ان کی مکمل رپورٹ اس لنک پر موجود ہے
اسی طرح اکتوبر 2014 ميں اقوام متحدہ کی ايک رپورٹ ميں اعداد وشمار کے ساتھ واضح کيا گيا کہ صرف اغوا اور تاوان جيسی کاروائيوں سے داعش نے ايک سال ميں 35 سے 45 ملين ڈالرز شہريوں سے وصول کيے۔
آئ ايس آئ ايس کے جنگجو جو ايک وقت گلف کے بعض مخير حلقوں سے حاصل شدہ چندے کی رقم پر انحصار کرتے تھے، اب خود وسائل سے مالا مال اور مالی خودانحصاری کے اس مقام پر پہنچ چکے ہيں جہاں تيل کی سمگلنگ، چوری چکاری، بھتہ خوری اور انسانی سمگلنگ کی بدولت اس تنظيم کی يوميہ آمدن 3 ملين ڈالرز سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس وقت عراق اور شام ميں تيل کے قريب 11 ذخائر اس تنظيم کے زير اثر ہيں اور يہ قديم تہذيبوں سے حاصل شدہ مالی وسائل کے ذريعے بھی اپنی بربريت کو جاری رکھے ہوۓ ہے۔
آئ ايس آئ ايس نے نا صرف يہ کہ عراق سے قيمتی نواردات ترکی ميں فروخت کر کے کئ ملين ڈالرز تک رسائ حاصل کی ہے بلکہ عورتوں اور بچوں سميت اغوا براۓ تاوان کی وارداتوں اور انسانی اسمگلنگ جيسے جرائم نے بھی اس تنظيم کی مالی حيثيت کو مستحکم کرنے ميں اہم کردار ادا کيا ہے۔
علاوہ ازيں دکان داروں، کاروباری طبقات اور عام شہريوں کا بھی آئ ايس آئ ايس کے ہاتھوں بھتہ خوری کا شکار ہونا روز کا معمول ہے۔
ذيل ميں ايک رپورٹ کا لنک موجود ہے جس ميں آئ ايس آئ ايس کے جنگجوؤں کے ہاتھوں عام شہريوں سے زبردستی بھتے وصول کرنے کے کئ واقعات کی تفصيل موجود ہے۔
کيا آّپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ امريکی حکومت کا کوئ بھی ادارہ ايک عالمی سطح پر کالعدم دہشت گرد تنظيم کو کسی بھی قسم کی امداد، تعاون يا سازوسامان يا کسی بھی کسی قسم کی سپورٹ فراہم کرنے کی اہليت رکھتا ہے يا ايسا کرنے کی خواہش کرے گا؟ علاوہ ازيں، امريکی حکومت کے کسی بھی ادارے کو مجرموں کے ايک ايسے گروہ کو مستحکم يا فعال کر کے کيا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جو اپنے ہر عوامی پيغام ميں ہميں نقصان پہنچانے کی دھمکی دے رہے ہيں؟
ميں آپ کو يقين دلاتا ہوں کہ عمومی تاثر اور روايتی سوچ پر مبنی آپ کے تاثرات کے برعکس سی – آئ – اے کوئ نظروں سے اوجھل، تمام تر اختيارات سے مالا مال ايسی تنطيم نہيں ہے جو اپنے کسی بھی عمل کے ليے جواب دہ نہيں ہے يا يہ کہ حکومتی احتساب سے مبرا کوئ ايسا ادارہ ہے جو اپنے ہر عمل اور فيصلہ سازی ميں مکمل آزاد ہے۔
يہ ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ امريکی حکومتی ادارے اور تنظيميں کانگريس کی پوچھ کچھ اور منظوری کے محتاج ہوتے ہيں۔ سی – آئ – اے اس بنيادی اصول سے مبرا نہيں ہے۔
اينٹيلی جينس نظام کے احتساب کا تعلق حکومتی انتظاميہ کی جانب سے بلاواسطہ فيڈرل پروگرامز، ايجنسيز اور پاليسی سازی کے عمل کی نگرانی کو يقينی بنانا ہے۔ اس اتھارٹی کا براہراست تعلق امريکی آئين کی اس شق سے ہے جس کی رو سے کانگريس کو “ضروری اور مناسب” طاقت اور اختيار کا منبہ قرار ديا گيا ہے۔ ۔
Not only me, but every one in these effected areas knows for the fact that these scum bags are supported by the agencies of US…
FAZALULLAH of Sawat who is now guest of US govt, residing in Afghanistan under puppet govt of Afghanistan is living example…of US agencies suppprts terrorism
Digital team. All these terrorists were at one time or another hot favourite of u s of a. Actually they were fed and supported by them to gain some benifit. Once the benifit received they no more their eye candy
خطے ميں ہمارے اہم ترين اتحادی ہمارے اپنے فوجی اور علاقائ شراکت دار ہيں، نا کہ دہشت گرد گروہ اور ان کے قائدين جو ہمارے وسائل پر روزانہ حملے کرتے ہيں۔ اگر آپ کو اس ضمن ميں ذرا سا بھی شک ہے کہ امريکی حکومت ان دہشت گرد گروہوں کے قائدين کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائ کے ضمن ميں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر سکتی ہے تو پھر ان تنظيموں کے سابقہ قائدين کی لسٹ پر ايک نظر ڈاليں اور پھر يہ فيصلہ کريں کہ ان کو غير فعال کرنے میں کس نے وسائل، اينٹيلی جنس، تکنيکی معاونت اور سازوسامان فراہم کيا تھا۔
بيت اللہ محسود کی مثال ديکھ ليں۔ ٹی ٹی پی کا دہشت گرد ليڈر جو سينکڑوں معصوم پاکستانی شہريوں کی ہلاکت کا ذمہ دارتھا آج نا تو زندہ ہے اور نا ہی فعال۔ اسی طرح القائدہ کے تنظيمی ڈھانچے کا جائزہ ليں اور اس کا موازنہ 911 کے واقعات سے پہلے کی صورت حال سے کريں۔ اسامہ بن لادن سميت القائدہ اور طالبان کے دو تہائ سے زيادہ قائدين يا تو مارے جا چکے ہيں يا زير حراست ہيں اور يہ سب کچھ ان عالمی کوششوں کے سبب مکن ہو سکا ہے جن ميں امريکہ نے مرکزی کردار ادا کيا ہے۔
يقينی طور پر صورت حال يہ نا ہوتی اگر آپ کے الزام کے مطابق ہم ان دہشت گرد افراد کو اپنے اثاثے سمجھتے۔
اگر اس دليل کو درست تسليم کر ليا جاۓ تو پھر سوال يہ اٹھتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے قائدين اور اس تنظیم سے وابستہ وفادار جنگجو کيونکر ايک ايسے “کٹھ پتلی نچانے والے” مالک کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگائيں گے جو نا صرف يہ کہ خود انھيں ٹارگٹ کر رہا ہے بلکہ وہ حکومت پاکستان کو بھی ہر قسم کے وسائل، لاجسٹک امداد اور جنگی سازو سامان مہيا کر رہا ہے تا کہ ان کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ و برباد کيا جا سکے؟
کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ٹی ٹی پی يہ جانتے ہوۓ ہمارے ساتھ تعاون کرے گی اور ہمارے اشاروں پر کام کرے گی کہ ہم نے نا صرف يہ کہ اس تنظيم کے قائدین کی گرفتاری پر انعام مقرر کر رکھا ہے بلکہ ہم خطے ميں اپنے اسٹريجک اتحاديوں کے ساتھ مل کر اس امر کو يقینی بنا رہے ہيں کہ اس تنظيم کو اس حد تک غير فعال کر ديا جاۓ کہ وہ کسی قسم کی دہشت گرد کاروائ کرنے کی صلاحيت سے عاری ہو جاۓ؟
کوئ بھی تعميری ذہن يہ ناقابل ترديد حقيقت ديکھ سکتا ہے۔ ان تنظيموں کا واضح کردہ مقصد اور اس ضمن ميں بے شمار شواہد موجود ہيں۔ غلط تاثرات پر مبنی مبہم سازشی کہانياں ان کے خونی نظريے کو جلا بخشنے کا سبب بنتی ہيں
اگر اس دليل کو درست تسليم کر ليا جاۓ تو پھر سوال يہ اٹھتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے قائدين اور اس تنظیم سے وابستہ وفادار جنگجو کيونکر ايک ايسے “کٹھ پتلی نچانے والے” مالک کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگائيں گے جو نا صرف يہ کہ خود انھيں ٹارگٹ کر رہا ہے بلکہ وہ حکومت پاکستان کو بھی ہر قسم کے وسائل، لاجسٹک امداد اور جنگی سازو سامان مہيا کر رہا ہے تا کہ ان کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ و برباد کيا جا سکے؟
کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ٹی ٹی پی يہ جانتے ہوۓ ہمارے ساتھ تعاون کرے گی اور ہمارے اشاروں پر کام کرے گی کہ ہم نے نا صرف يہ کہ اس تنظيم کے قائدین کی گرفتاری پر انعام مقرر کر رکھا ہے بلکہ ہم خطے ميں اپنے اسٹريجک اتحاديوں کے ساتھ مل کر اس امر کو يقینی بنا رہے ہيں کہ اس تنظيم کو اس حد تک غير فعال کر ديا جاۓ کہ وہ کسی قسم کی دہشت گرد کاروائ کرنے کی صلاحيت سے عاری ہو جاۓ؟
کوئ بھی تعميری ذہن يہ ناقابل ترديد حقيقت ديکھ سکتا ہے۔ ان تنظيموں کا واضح کردہ مقصد اور اس ضمن ميں بے شمار شواہد موجود ہيں۔ غلط تاثرات پر مبنی مبہم سازشی کہانياں ان کے خونی نظريے کو جلا بخشنے کا سبب بنتی ہيں
I was traveling and i saw this movie of these two guys one India-Asian and other Korean who were picked by American agencies as a terrorists… the officer in charge was trying to speak in Korean to the people who were American Nationals and had perfect understanding of English..
you seem to be the same idiot… ( sorry for the words, but can you read the fonts you type)