لمحہ بھر کو ......

[RIGHT]**لمحہ بھر ہی

لمحہ بھر کو یونہی بیٹھے جب آنکھیں موند لیتا ہوں
سماں رنگین، رتیں مایل، نگاہ ہے عمر رفتہ پر

لمحے بھر کی تو ساعت ہے، جنوں غالب گماں پر ہے
گئی گھڑیاں یکایک جب نگاہوں میں سمٹتی ہیں.

ہوا کے زور سے لہروں کی مانند ناچتی زلفیں
تیرا وہ کھلکھلا کر ہنسنا بھی دیکھتا ہوں میں

وہ ساحل پہ کھڑے ہو کر نظارہ دور کا کرنا
سمندر کے کسی کونے میں نَِیہ (کشتی) دیکھتا ہوں میں

ترا وہ خامشی سے کچھ محبّت سے اچانک یوں
مرے کندھے پہ سر رکھنا، مجھے جب یاد آتا ہے

زمانے کے غموں سے اک گھڑی آزاد ہو کر میں
تجھے جب یاد کرتا ہوں تو دل کو اچھا لگتا ہے.

کہیں دل کے کسی گوشے میں خواہش یہ بھی اٹھتی ہے
وقت تھم جاۓ اور میں یوں تجھے تھامے رہوں ساکت

مری سانسوں تری سانسوں کا ہر دم کھیلتے رہنا
لبوں پر بھی لبوں کے لمس کا احساس تھم جاۓ

زمیں رک جاۓ تارے ٹمٹمانا بھول سا جایئں
ہو دیدہ ور اگر ماہتاب تو شرما سا جاۓ وہ

مگر افسوس کہ چلتے لمحے ٹھہرا نہیں کرتے
جو صد کوشش بھی کی تب بھی وقت کو روک نہ پایا

کہیں جب دور سے ہلکی سی دھن مجھ کو سنائی دے
کبھی چپکے سے تیری یاد کا مدھم گماں بھی ہو

میں لمحے بھر کو تھوڑا مسکرا دیتا ہوں دھیرے سے
سراپا گر ترا میرا نہیں، یادیں تو میری ہیں

تو میرے پاس نہ بھی ہو تری خوشبو تو میری ہے
تری آنکھیں نہ ہوں مجھ پر مگر نظریں تو میری ہیں

مجھے معلوم ہے دن بھر، یہ سارا دن نہیں میرا
جنوں غالب گماں پر ہے نجم راتیں تو میری ہیں

علی نجم
لندن، ٢٦ جنوری، ٢٠١٦**
[/RIGHT]