jiia
1
[RIGHT]یہ میں بھی کیا ہوں اُسے بھول کر اُسی کا رہا
کہ جس کے ساتھ نہ تھاہم سفر اُسی کا رہا
وہ بُت کہ دشمنِ دِیں تھا بقول ناصح کے
سوالِ سجدہ جب آیا تو در اُسی کا رہا
ہزار چارہ گروں نےہزار باتیں کیں
کہا جو دل نے سخن معتبر اُسی کا رہا
بہت سی خواہشیں سو بارشوں میں بھیگی ہیں
میں کس طرح سے کہوں عمر بھر اُسی کا رہا
کہ اپنے حرف کی توقیر جانتا تھا فرازؔ
اسی لئے کفِ قاتل پہ سر اُسی کا رہا
[/RIGHT]
enter10
2
Re: یہ میں بھی کیا ہوں اُسے بھول کر اُسی کا رہا
یہ میں بھی کیا ہوں اُسے بھول کر اُسی کا رہا
کہ جس کے ساتھ نہ تھاہم سفر اُسی کا رہا
وہ بُت کہ دشمنِ دِیں تھا بقول ناصح کے
سوالِ سجدہ جب آیا تو در اُسی کا رہا
ہزار چارہ گروں نےہزار باتیں کیں
کہا جو دل نے سخن معتبر اُسی کا رہا
بہت سی خواہشیں سو بارشوں میں بھیگی ہیں
میں کس طرح سے کہوں عمر بھر اُسی کا رہا
کہ اپنے حرف کی توقیر جانتا تھا فرازؔ
اسی لئے کفِ قاتل پہ سر اُسی کا رہا
enter10
3
Re: یہ میں بھی کیا ہوں اُسے بھول کر اُسی کا رہا
Bohat Khoob…:k: