ہم کیا کرتے کس راہ چلتے

ہم کیا کرتے کس راہ چلتے
ہر راہ میں کانٹے بکھرے تھے
اُن رشتوں کے جو چھوٹ گئے
اُن صدیوں کے یارانوں کے
جو اِک اِک کرکہ چھوٹ گئے
جس راہ چلے ، جس سمت گئے
یوں پاؤں لہولہان ہوئے
سب دیکھنے والے کہتے تھے
یہ کیسی ریت رچائی ہے
یہ مہندی کیوں لگائی
وہ کہتے تھے ، کیوں قحطِ وفا
کا ناحق چرچا کرتے ہو
پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو
یہ راہیں جب اَٹ جائیں گی
سو رستے ان سے پھوٹیں گے
تم دل کو سنبھالو جس میں ابھی
سو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے

Re: ہم کیا کرتے کس راہ چلتے

ham kia kerty kis rah chalty
chalty bhi to ksi k liay
us k liay jo apna tha
apna tha k sapna tha :teary1:

Re: ہم کیا کرتے کس راہ چلتے

:frowning: