بشارت

بشارت

سُنو
جب خُوشبوئیں اعلان کرتی ہیں
کسی کے لوٹ آنے کا
تو پھر لفظوں میں کیسے لکھ سکیں گے
اس کی آمد کی کہانی کو
وفا کی حکمرانی کو
سُنو، تم بھی ذرا دیکھو
محّبت کی دُعائیں مانگتی شب نے
نئے اِک سُرخرو دن کے سُہانے خواب
دیکھے ہیں
یہ کیسا خُوشنما احساس ہے
آئندہ برسوں میں
ہر اِک موسم ، ہر اک دن کی دھنک
کرنوں کو
ہم اِک ساتھ برتیں گے
سُنو، یہ خُوشبوئیں اعلان کرتی ہیں

Re: بشارت

kab yad me tera sath nhai kab hath me tera hath nhai
sad shuker k apni raato me ab hijr ki koe raat nhai :wub:

Re: بشارت

bohat Khoob…:k: