**
طرحی غزل
کیا کسی کی رائے پھر درکار ہے
‘‘فن بتاتا ہے کہ یہ فنکار ہے’’
زندگی اب کس قدر دشوار ہے
آدمی سے آدمی بیزار ہے
کہ رہی ہے یہ مری کم ہمتی
دیکھ تیری راہ میں دیوار ہے
ایک مخلص دوست کے ہوتے ہوئے
کیا کسی کو آئنہ درکار ہے
یہ امیری ہو مبارک آپ کو
مجھ کو میری مفلسی سے پیار ہے
کچھ نہیں آتا اسے سچ کے سوا
آئنے سے پوچھنا بیکار ہے
وہ ہے سورج، ذہن میں رکھنا فصیح
اس کی جانب دیکھنا دشوار ہے
شاہین فصیح ربانی
**
**
**