Re: اعتراف جرم
[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
ان دہشت گرد گروہوں کے قلع قمع کے ليے امريکہ پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہا ہے جو ناصرف يہ کہ پاکستان کی سيکورٹی کے ليے خطرہ بنے ہوۓ ہيں بلکہ پورے خطے کے ساتھ ساتھ امريکہ کی قومی سلامتی کے ليے بھی يکساں ناسور ہيں۔
امريکی حکومت پاکستان ميں سول حکومت اور فوجی قيادت کے ساتھ مل کر اس خوفناک خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کے ليے مشترکہ کاوشوں ميں شامل ہے جو پورے ملک ميں سينکڑوں بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کا سبب بنا ہے۔
امريکی تعاون محض معاشی مدد تک محدود نہيں ہے۔ فوجی سازوسامان، تربيت، اينٹيلی جينس تک رسائ، لاجسٹک سپورٹ اور ايسی بروقت اور قابل عمل معلومات جو دہشت گردی پر مبنی منصوبوں کو روکنے اور قصووار افراد کو کيفر کردار تک پہنچانے کا ذريعہ بنيں، دونوں ممالک کے مابين باہمی شراکت اور تعاون پر مبنی تعلقات کا اہم حصہ ہيں اور اس اسٹريجک اتحاد ميں وقت گزرنے کے ساتھ مزيد پختگی آ رہی ہے۔
آپ نے حاليہ دنوں ميں وہ خبر ضرور ديکھی ہو گی جس ميں پاکستان کو مطلوب طالبان کے اہم دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان منتقل کر کے حکام کے حوالے کيا گيا ہے۔
(Notice of Privacy)
اسی طرح ٹی ٹی پی کے ليڈر ملا فضل اللہ کو امريکی حکومت کی جانب سے انتہائ مطلوب بيرونی دہشت گردوں کی لسٹ ميں شامل کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں ممالک ايک مشترکہ دشمن اور مشترکہ خطرے سے نبرد آزما ہونے کے ليے مل کر کام کر رہے ہيں کيونکہ اس مقصد کے حصول کے ليے باہمی تعاون اور وسائل ميں شراکت انتہائ اہم ہے۔
Terrorist Designations of Maulana Fazlullah
پاکستان کے حاليہ دورے کے دوران امريکی وزير خارجہ جان کيری نے دہشت گردی کو شکست دينے کے ليے پاکستان کی جاری کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں ميں جاری فوجی آپريشنز کی کاميابی کے ليے ہر ممکن تعاون کا يقین دلايا۔ سيکرٹری کيری اور پاکستانی وزيراعظم کے مشير خاص سرتاج عزيز نے اس بات پر اتفاق کيا کہ پاکستان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کے ضمن ميں امريکہ کی دفاعی امداد موثر ثابت ہو رہی ہے۔
دونوں فريقين کی جانب سے دسمبر 2014 ميں واشنگٹن ميں ہونے والی ڈيفينس کنسلٹيٹيو گروپ کی 23ويں ميٹينگ اور مستقبل ميں دفاع کے ضمن ميں تعاون کو فعال بنانے کے ليے مختلف حوالوں سے کی جانے والی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کيا گيا۔ اس بات کو بھی اجاگر کيا گيا کہ دونوں ممالک کے سيکورٹی سے متعلق مفادات کے تحفظ کے ليے تعاون ميں بہتری لانے کے ليے ڈيفينس کنسلٹيٹيو گروپ نے اہم کردار ادا کيا ہے۔ دونوں جانب سے دفاعی تعلقات ميں مضبوطی کے ليے پختہ عزم کا اعادہ بھی کيا گيا۔
دونوں فريقین کی جانب سے جنوری 12 2015 کو اسلام آباد ميں لاء انفورسمنٹ اور کاؤنٹر ٹيررازم کے نام سے ورکنگ گروپ کے نتائج پر بھی اعتماد کا اظہار کيا گيا۔ سرتاج عزيز کی جانب سے پاکستان کی انسداد دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے کی صلاحيتوں کو مزید فعال بنانے کے ليے امريکہ کی جانب سے تعاون اور مدد کو بھی سراہا گيا۔ دونوں جانب سے انسداد دہشت گردی کے ضمن ميں تعاون کو مزيد بہتر کے ليے مزيد امکانات پر بھی تفصيلی گفتگو کی گئ جس ميں متشدد دہشت گردی اور عسکريت پسندی کی روک تھام کے ليے موثر پيغام رسانی اور سوچ کی ترويج کے ضمن ميں زيادہ موثر اور فعال حکمت عملی، قانون کی حکمرانی کی مجموعی صورت حال، خود ساختہ دھماکہ خيز مواد سے نبردآزما ہونے کے ليے جاری تعاون کی يقین دھانی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے اور ان علاقوں پر اپنی رٹ قائم کرنے جيسے معاملات پر بھی سہل حاصل گفتگو کی گئ۔
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
www.state.gov
https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu**[/RIGHT]