**
طرحی غزل
کافی تھا اک دئیے کا اجالا مرے لیے
کس نے فضا میں چاند اچھالا مرے لیے
میرے لیے غموں کو گلے سے لگا لیا
اور شاعری کا روگ بھی پالا مرے لیے
تعبیر کے دیار میں لے جاؤں گا اسے
پلکوں پہ جس نے خواب سنبھالا مرے لیے
الجھا ہوں اس میں یوں کہ نکلنا محال ہے
دنیا ہے کوئی مکڑی کا جالا مرے لیے
سونے کبھی دیا نہ مجھے اس امید نے
تارا ہے کوئی ٹوٹنے والا مرے لیے
یعنی کہ اس کو مجھ سے محبت ہے آج بھی
بھیجی ہے اس نے پھولوں کی مالا مرے لیے
پتھر اٹھا کے ہاتھ میں پھرتا ہے وہ فصیح
دیتا ہے آئنے کا حوالہ مرے لیے
شاہین فصیح ربانی**
Re: کافی تھا اک دئیے کا اجالا مرے لیے
nice poem as usual :k:
Re: کافی تھا اک دئیے کا اجالا مرے لیے
Wah Janab Buhat Shukaria Iss Section Ko Sharaf-e-Qaboliat Bakhashnay Ka :halo:
Re: کافی تھا اک دئیے کا اجالا مرے لیے
Wah... kya baat hai.. janab to bohat aala shair hain
Sonay kabhi diya na mujhe isss umeed ne
Tara hai koi tootnay wala meray liye
Bohat aala sher hai
Azad
5
Re: کافی تھا اک دئیے کا اجالا مرے لیے
Hummm
Re: کافی تھا اک دئیے کا اجالا مرے لیے
بہت نوازش محترم احباب، بہت بہت شکریہ
سدا شاداں و فرحاں رہیے۔
Re: کافی تھا اک دئیے کا اجالا مرے لیے
**
سونے کبھی دیا نہ مجھے اس امید نے
تارا ہے کوئی جاگنے والا مرے لیے
**
SA33D
8
Re: کافی تھا اک دئیے کا اجالا مرے لیے
Nice 1