**
انا جب تک
فنا کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتی
نماز _عشق سے دل کی جبیں محروم رہتی ہے
نگاہیں ایک چہرے سوا کچھ دیکھنا چاہیں
تو صدیوں تک پھر آنکھوں پرعطا کا در نہیں کھلتا
کسی منظر کے اندر دوسرا
منظر نہیں کھلتا
کہ یہ رستہ وہ ہےجس پر
وفا کی خاک میں جب ھجر کےآنسو اترتے ہیں
تو حرف_بے ہنر کو درد کی سوغات ملتی ہے
دعاۓ شوق کی وارفتگی کو
باریابی کی فقط اک رات ملتی ہے
مگر کس کو خبر تب تک
طلب ہی وصل کی معدوم ہوجاۓ
فنا کا اسم _ اعظم روح کو معلوم ہوجاۓ
**