ختم آزار کر دیا جاۓ
آخری وار کر دیا جاۓ
آج دل کو تری محبت سے
دستبردار کر دیا جاۓ
آؤ اب نیند سے محبت کی
خود کو بیدار کر دیا جاۓ
آج کی شام کا ہر اک منظر
منظر_دار کر دیا جاۓ
کس لیے جسم و جاں سلگتے ہیں
اب تو اظہار کر دیا جاۓ
دل کو عادت سی ہو گئی تیری
اس سے انکار کر دیا جاۓ.