طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول

طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
میرے خاموش خیالوں میں تکلم تیرا
رقص کرتا رہے،بڑھتا رہے خوشبو کا خمار
میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا
تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
تیری سانسوں میں مسیحائی تھی، لیکن تو بھی
چارہِ زخم دیدہِ ترکر نہ سکی
تجھ کو معلوم ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے؟
تو ! کہ سیماب طبیعت! تجھے کیا معلوم
موسم ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں

محسن نقوی

Re: طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول

تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں

:(

Re: طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول

kesi dil hilany wali shairi hy :(

meri to heart beat zeada ho gai