ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے

ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے

زندہ رہنے کی ہو نیّت تو شکایت کیسی
میرے لب پر جو گِلے ہیں وہ بہانے میرے

رخشِ حالات کی باگیں تو مرے ہاتھ میں تھیں
صرف میں نے کبھی احکام نہ مانے میرے

میرے ہر درد کو اس نے اَبَدیّت دے دی
یعنی کیا کچھ نہ دیا مجھ کو خدا نے میرے

میری آنکھوں میں چراغاں سا ہے مستقبل کا
اور ماضی کا ہیولٰی ہے سَرھانے میرے

تُو نے احسان کیا تھا تو جتایا کیوں تھا
اس قدر بوجھ کے لائق نہیں شانے میرے

راستہ دیکھتے رہنے کی بھی لذّت ہے عجیب
زندگی کے سبھی لمحات سہانے میرے

جو بھی چہرہ نظر آیا ترا چہرہ نکلا
تو بصارت ہے مری، یار پرانے میرے

سوچتا ہوں مری مٹّی کہاں اڑتی ہوگی
اِک صدی بعد جب آئیں گے زمانے میرے

صرف اِک حسرتِ اظہار کے پر تو ہیں ندیم
میری غزلیں ہوں کہ نظمیں کہ فسانے میرے

احمد ندیم قاسمی

Re: ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے

تُو نے احسان کیا تھا تو جتایا کیوں تھا
اس قدر بوجھ کے لائق نہیں شانے میرے

kiya pichi Eid e Qurbaan pe khalen uthane ka kaam kiya tha aap ke natawaan kandhon ne :p

Re: ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے

:rotfl:…kia kia sochty hyn Aap
:fatee:…kisi ko kandhy py bitha k sair k liya ly gaya tha:p

Re: ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے

es dafa to bohat kam kerna pary ga
pichli eid per kia swayiayn khany se muscle pull ho gai thy :emmy:

Re: ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے

Qasmi Sb :k:

Re: ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے

Ap bhi usi Qisam ki swayian banati hyn…?:stuck_out_tongue:
:hayaa: