اپنی باتوں میں یوں پیدا پیار کی تاثیر کر
جو دلوں میں جا کے بیٹھیں نفرتوں کو چیر کر
آنکھ کے روزن سے پردے پر اُتارا ہے اُسے
ہم نے اپنے دل میں رکھا ہے اُسے تصویر کر
توُ اگر کُچھ مرتبہ چاہے خُدا کے سامنے
خود بھی توُ انساں بن، انسان کی توقیر کر
تیرے باہر کا اندھیرا خوُدبخُود چھٹ جائے گا
اپنے اندر کی فضا کو جو ذرا تنویر کر
گر دلوں پہ حُکمرانی کی تُجھے چاہت ہے تو
اپنے دل میں جو چُھپا ہے بھیڑیا تسخیر کر
جب بھی تیری ذات پر آئے کبھی بھی کوئی حرف
ابنے لہجے کو سناں کر، گُفتگوُ شمشیر کر
آ بھی جا کہ انتظار۔دید میں آنکھیں ہیں وا
دم ہے بس اٹکا ہوُا ، اب اور نہ تاخیر کر
کر بھروسہ بازوُؤں پہ غیر کی جانب نہ دیکھ
اپنی بُنیادوں پہ توُ اپنا جہاں تعمیر کر
جو مری اس نسل نے دیکھا ہے مُستقبل کا خواب
ہے مری خواہش کہ تُو اس خواب کی تعبیر کر
پھر گُلوں کی کونپلوں پر توُ ہوا کے برش سے
خوُشبوُؤں میں ڈوُب کر کوئی صبا تحریر کر