**
**
**دکه درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا
گهر جاو تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وه ضبط نہ کر پاہیں گے آنکهوں کے سمندر
تم راه گزاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
پهولوں کے نشیمن میں رہا ہوں میں سدا سے
دیکهو کبهی خاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
شاہد یہ اندهیرے ہی مجهے راه دکهاہیں
اب چاند ستاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وه مری کہانی کو غلط رنگ نہ دے دیں
افسانہ نگاروں سے مرا زکر نہ کرنا
شاید وه مرے حال پہ بے ساختہ رو دیں
اس بار بہاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
لے جاہیں گے گہرائی میں تم کو بهی بہا کر
دریا کے کناروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وه شخص ملے تو اسے ہر بات بتانا
تم بس اشاروں سے مرا ذکر نہ کرنا**