اسلام آباد (۲۶جون۲۰۱۴ء)___ امریکہ نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی خوراک اور غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے حکومت پاکستان کو مزید ۸۰ لاکھ ڈالر کی اعانت فراہم کی ہے۔ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے ذریعے فراہم کی جانے والی یہ امدادامریکی حکومت اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے زیر اہتمام ‘‘ٹوننگ پروگرام’’ کے تحت جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ ‘‘ٹوننگ پروگرام’’ حکومت پاکستان، ورلڈ فوڈ پروگرام اور امداد دینے والے بین الاقوامی اداروں کے مابین اشتراک ہے جس کے ذریعے پاکستانی حکومت کی جانب سے عطیہ کی جانے والی گندم کو صحت بخش آٹے میں تبدیل کرکے خطرے سے دوچار آبادیوں میں تقسیم کیاجاتاہے۔ امدادی رقم گندم کی پسوائی ،اسے صحت بخش بنانے، ذخیرہ کرنے، اور آٹے کی نقل وحمل اور تقسیم پر اٹھنے والے اخراجات پر خرچ کی جاتی ہے۔ حکومت امریکہ کے اس نئے عزم سے ورلڈ فوڈ پروگرام کو لگ بھگ۳۸ ہزار میٹرک ٹن گندم کو صحت بخش آٹے میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی جس سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو دومہینے سے زیادہ عرصے تک غذائیت سے بھرپور خوراک میسر آئے گی۔
۲۰۱۳ء میں‘‘ٹوننگ پروگرام’’کے آغاز سے لے کر اب تک حکومت پاکستان نے ورلڈ فوڈ پروگرام کو دولاکھ ایک ہزار میٹرک ٹن گندم کا عطیہ دے کر اس شراکت داری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آٹھ لاکھ ڈالر کی اس اعانت سے یوایس ایڈاس پروگرام کیلئے امداد دینے والا سب سے بڑا عالمی ڈونر بن گیا ہےجواس مد میں ۳۱ملین ڈالر ادا کرچکاہے۔ یہ رقم حکومت پاکستان کی جانب سے عطیہ کی گئی ساٹھ فیصد گندم کو صحت بخش آٹے میں تبدیل کرنے کیلئے کافی ہے۔
یوایس ایڈ کی قائم مقام مشن ڈائریکٹر نینسی ایسٹس نے کہاکہ ‘‘ٹوننگ پروگرام’’کے حوالےسے امریکہ کا عزم فاٹا میں بے گھر ہونے والی آبادی کی مدد کرنے اورحکومت پاکستان ، ڈبلیو ایف او اور عالمی برادری کے درمیان انتہائی اہم شراکت داری کاغماز ہے۔
امریکہ انسانی بنیادوں پراعانت فراہم کرنےاور افرادی وسماجی ترقی میں مدد دینے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنےکی طویل تاریخ اور عزم رکھتا ہے۔ ‘‘ٹوننگ پروگرام’’کے تحت آٹھ لاکھ ڈالر کی اس اعانت کے علاوہ یوایس ایڈ نے ۲۰۱۴ء میں پاکستان کو غذائی امداد کی مد میں ساٹھ ملین ڈالر سے زیادہ فراہم کرچکا ہے۔امریکہ نے ۲۰۰۹ء سے لے کر اب تک پاکستان کو انسانی بنیادوں پر ایک اعشاریہ چار بلین ڈالر سے زیادہ کی
اعانت فراہم کی ہے، جس سے وہ دوطرفہ تعلقات میں انسانی بنیادوں پر سب سے زیادہ امداد دینے والا ملک بن چکا ہے۔
امریکہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی خوراک اور غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے حکومت پاکستان کو مدد فراہم کررہا ہے۔
امريکی ادارہ یو ایس ایڈ براۓ بین الاقوامی ترقی اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے شمالی وزیرستان ایجنسی ميں 242298 بے گھر افراد کو 1580 ٹن خوراک کی بنیادی اشیاء فراہم کی ہیں۔
ڈبلیو ایف پی بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں واقع خوراک کی تقسیم کے چھ مراکز قائم ہيں۔ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لئے مستقبل قریب میں مزید چار مراکز کھولنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
Yeh sab to theek hai… mager ghee kay dabby USA Aid print howa hia… Dalda walon say khareed kar de detay… aik to cost bachti dosra… dalda walon ki sell bhi barh jati…
hukam e bala ko yeh bata dain… kay muqami ashiya khordo nosh khareed kar denay say mulk ziydah tarqi karta hia… :chai:
apni govt se to americans zyada behter hain jo at least kuch de to rahay hain
nawaz sharif if 5th biggest investor in UK, apnay mulk mein kuch invest kab karayga ganja takla? ye haramkhor Allah ko kaisay jawab daingay jab inki pakar hogi ? inhon ne merna nai hai kya in mein khof-e-khuda kab paida hoga
سنٹ کام کیا کھُڈے لین لگ گیا ہے جو اب تم یہاں اوباما کی لیپاپوتی کر رہے ہو اور - وہ بہی اردو میں....ہمیں جاہل سمجھتے ہو...کہ شائد جاہل پاکستانىوں کو سنٹکام کی انگریزی نہ سوجھ آئی ہو.
پیسے دیتے ہو تو ایمبیسی کے نام پر قلعے بھی بناتے ہو.پیسے دیتے ہو تو ریمنڈ ڈیوس پاکستانی قتل بھی کرتا ہے.
ہم بےغیرت تو تم مہا بےغیرت.
بہت بہت لکھ دی لعنت..... آپ نام بدل بدل کر اپنی بےہسی اور بےغیرتی کا پُرسا خود ہی دینے پہنچ جاتے ہیں.
Good to see Americans are sending all the help they can in the blessed month of Ramadan for almost a million IDPs. The local leadership is so busy in fund raising for their own political agendas that with all the will and good intention, they are not able to do what they should be doing in these times. Few Symbolic gestures here and there...
امریکہ کی جانب سے پاکستان کے بے گھر ہونے والے افراد کیلئے غذائی امدادکی فراہمی جاری
اسلام آباد (۲۵اگست، ۲۰۱۴ء) ___ امریکہ نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے بے گھر ہونے والے افراد (آئی ڈی پیز) کی خوراک اور غذائیت کی ضروریات کو پوری کرنے میں حکومت پاکستان کی مدد کے لئے کو ۲۰ اگست کو اضافی ۶ ملین ڈالر مہیا کئے۔ یہ تعاون جو امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ ) کے خوراک برائے امن دفتر کے ذریعے فراہم کیا گیا، حکومت پاکستان، امریکی حکومت اور اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے ایک مشترکہ منصوبے کے تحت جاری اشتراک کا حصہ ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد مشترکہ منصوبہ ہے جو گندم کی پسائی، اسکی غذائیت کو بھرپوربنانے، نقل و حرکت اور تقسیم کی لاگت کی ادائیگی کے ذریعے گندم کی پیداوار میں حکومت پاکستان کے کردار کو تقویت دیتا ہے۔ گندم کی غذائیت کو بھرپوربنانے کے عمل کے تحت غذائی کمی کے شکار کم وسائل والے افراد کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے حیاتین اور نمکیات کو شامل کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کا عالمی خوراک پروگرام اس خوراک کو شمالی وزیرستان ایجنسی کے لوگوں سمیت بے گھر ہونے والے ۱۴ لاکھ افراد کی مدد کے لئے استعمال کررہا ہے۔
اس تعاون کے ساتھ یو ایس ایڈ اس پروگرام کا اب سب سے بڑا بین الاقومی امدادی ادارہ بن گیا ہے، جس نے مجموعی طور پر۳۹ملین ڈالر کی معاونت فراہم کی ہے، جو حکومت پاکستان کی جانب سے ۲۰۱۳ء کے بعد سے اب تک عطیہ کی گئی ۲ لاکھ ۱۴ ہزار میٹرک ٹن گندم کی ۶۰ فیصد سے زائد مقدار کو بہتر بنانے کے لئے کافی ہے۔
پاکستان میں انسانی بنیادوں پر امریکی تعاون اور انسانی و سماجی ترقی میں امریکی معاونت کی ایک طویل تاریخ ہے اور امریکہ اس ضمن میں بھرپور کردار جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔ ۲۰۱۴ء میں یو ایس ایڈ نے مذکورہ بالا مشترکہ منصوبے کے علاوہ پاکستان کو غذائی معاونت کی مد میں ۶۰ ملین ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی۔ ۲۰۰۹ء کے بعد سے اب تک امریکہ نے انسانی بنیاد پر امداد کی مد میں پاکستان کو ایک ارب ۴۰ کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی ہے، جس سے یو ایس ایڈ انسانی بنیاد پر امداد کا سب سےبڑا دوطرفہ فراہم کنندہ ادارہ گیا ہے۔
متذکرہ بالا پروگرام کے بارے میں دستاویزی ویڈیو درج ذیل ویب لنک پر ملاحظہ کیجئے۔