**
**
**کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
وگرنہ زندگی ہم نے بھی کیا سے کیا نہیں کی
ہر اک سے کون محبت نباہ سکتا ہے
سو ہم نے دوستی یاری تو کی ، وفا نہیں کی
شکستگی میں بھی پندارِ دل سلامت ہے
کہ اس کے در پہ تو پہنچے مگر صدا نہیں کی
شکایت اس کی نہیں ہے کہ اس نے ظلم کیا
گلہ تو یہ ہے کہ ظالم نے انتہا نہیں کی
وہ نادہند اگر تھا تو پھر تقاضا کیا
کہ دل تو لے گیا قیمت مگر ادا نہیں کی
عجیب آگ ہے چاہت کی آگ بھی کہ فراز
کہیں جلا نہیں کی اور کہیں بجھا نہیں کی**
**
**
ehsan
2
Re: کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
**عجیب آگ ہے چاہت کی آگ بھی کہ فراز
کہیں جلا نہیں کی اور کہیں بجھا نہیں کی
Wah. :k:**
tarash
3
Re: کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
کہ دل تو لے گیا قیمت مگر ادا نہیں کی
kitni qeemat lagae thi
Re: کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
وہ نادہند اگر تھا تو پھر تقاضا کیا
کہ دل تو لے گیا قیمت مگر ادا نہیں کی
bara syasi sher ho gia yah tou 
Re: کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
dosti yaari.. sab pe bhari 