**
**
**ایک نظر ادھر دیکھہ تماشا ہی سہی
تیرہ پردہ،تیری دوری حالات کا تقاضہ ہی سہی
نظر بھر دیکھہ لینے سے بھلا کیا ہوگا
ہاں تم معصوم سہی اور ہم رسوا ہی سہی
ہم تیرے در پہ صدا دیتے ہوئے آئیں گے
نہ ملا طرز فقیری تو دید کا کاسہ ہی سہی
وہ میرے درد سے اکثر انجان بنا رہتا ہے
وہ میرا محسن ہی سہی ، درد شناسا ہی سہی
اتنی تو خیر اپنی بھی برداشت ہے کہ جدائی سہہ لیں
ہم بھی کچھہ پندار دل رکھتے ہیں چلو تھوڑا ہی سہی
ہم تیرے عشق میں آخر کار موسیّ تو بنے
معجزہ طور نہیں وہ تیراجلوہ ہی سہی
تیر جو مجھہ کو لگے وہ بھی عنایت ہیں تیری
تونے ہمیں سوچانفرت میں پنہاں ہی سہی
چلو کوئی بات تو بہانئہ عبادت ٹھہری
خوف محشر نہ سہی وہ غم جاناں ہی سہی
**
**
**