خطے ميں ہمارے اہم ترين اتحادی ہمارے اپنے فوجی اور علاقائ شراکت دار ہيں، نا کہ دہشت گرد گروہ اور ان کے قائدين جو ہمارے وسائل پر روزانہ حملے کرتے ہيں۔ اگر آپ کو اس ضمن ميں ذرا سا بھی شک ہے کہ امريکی حکومت ان دہشت گرد گروہوں کے قائدين کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائ کے ضمن ميں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر سکتی ہے تو پھر ان تنظيموں کے سابقہ قائدين کی لسٹ پر ايک نظر ڈاليں اور پھر يہ فيصلہ کريں کہ ان کو غير فعال کرنے میں کس نے وسائل، اينٹيلی جنس، تکنيکی معاونت اور سازوسامان فراہم کيا تھا۔
بيت اللہ محسود کی مثال ديکھ ليں۔ ٹی ٹی پی کا دہشت گرد ليڈر جو سينکڑوں معصوم پاکستانی شہريوں کی ہلاکت کا ذمہ دارتھا آج نا تو زندہ ہے اور نا ہی فعال۔ اسی طرح القائدہ کے تنظيمی ڈھانچے کا جائزہ ليں اور اس کا موازنہ 911 کے واقعات سے پہلے کی صورت حال سے کريں۔ اسامہ بن لادن سميت القائدہ اور طالبان کے دو تہائ سے زيادہ قائدين يا تو مارے جا چکے ہيں يا زير حراست ہيں اور يہ سب کچھ ان عالمی کوششوں کے سبب مکن ہو سکا ہے جن ميں امريکہ نے مرکزی کردار ادا کيا ہے۔
يقينی طور پر صورت حال يہ نا ہوتی اگر آپ کے الزام کے مطابق ہم ان دہشت گرد افراد کو اپنے اثاثے سمجھتے۔
اگر اس دليل کو درست تسليم کر ليا جاۓ تو پھر سوال يہ اٹھتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے قائدين اور اس تنظیم سے وابستہ وفادار جنگجو کيونکر ايک ايسے “کٹھ پتلی نچانے والے” مالک کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگائيں گے جو نا صرف يہ کہ خود انھيں ٹارگٹ کر رہا ہے بلکہ وہ حکومت پاکستان کو بھی ہر قسم کے وسائل، لاجسٹک امداد اور جنگی سازو سامان مہيا کر رہا ہے تا کہ ان کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ و برباد کيا جا سکے؟
کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ٹی ٹی پی يہ جانتے ہوۓ ہمارے ساتھ تعاون کرے گی اور ہمارے اشاروں پر کام کرے گی کہ ہم نے نا صرف يہ کہ اس تنظيم کے قائدین کی گرفتاری پر انعام مقرر کر رکھا ہے بلکہ ہم خطے ميں اپنے اسٹريجک اتحاديوں کے ساتھ مل کر اس امر کو يقینی بنا رہے ہيں کہ اس تنظيم کو اس حد تک غير فعال کر ديا جاۓ کہ وہ کسی قسم کی دہشت گرد کاروائ کرنے کی صلاحيت سے عاری ہو جاۓ؟
کوئ بھی تعميری ذہن يہ ناقابل ترديد حقيقت ديکھ سکتا ہے۔ ان تنظيموں کا واضح کردہ مقصد اور اس ضمن ميں بے شمار شواہد موجود ہيں۔ غلط تاثرات پر مبنی مبہم سازشی کہانياں ان کے خونی نظريے کو جلا بخشنے کا سبب بنتی ہيں
جہاں تک اس راۓ کا تعلق ہے کہ امريکہ افغانستان ميں محض اکا دکا حملوں اور داعش کے غير اہم جنگجوؤں کے خلاف کاروائ کر کے درحقيقت داعش کو پنپنے کا موقع فراہم کر رہا ہے تو اس ضمن ميں حاليہ دنوں کی اس رپورٹ کا لنک پيش ہے جس کے مطابق افغانستان ميں امريکہ اور مقامی افغان فورسز کی کاروائ کے نتيجے ميں داعش کے ليڈر کو ہلاک کر ديا گيا۔
**
ایک 18 سالہ بچے کی ماں کا وہی سوال جو زیادہ تر مائیں پوچھتی ہیں جب انکے جوان سال بچوں کو دہشت گرد کارروائیوں میں جاں بحق کر دیا جاتا ہے۔ ایسے نہ جانے کتنے ہی جواں سال ہونگے جو ایک دن صبح گھر سے نکلتے ہیں لیکن کبھی لوٹ کر نہیں آتے
میرا سینہ غم سے جل رہا ہے۔ میرا ہی بیٹا کیوں نشانہ بنایا گیا؟ داعش میں تم سے پوچھتی ہوں کیوں میرا بیٹا ہلاک کیا؟
ایک ماں کی فریاد جس کا جواں سال بچہ افغانستان میں داعش کے مبینہ حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
عالمی دہشت گردی سے متعلق جاری اعداد وشمار کے مطابق سال 2007 سے 2015 کے دوران تعليمی اداروں پر دہشت گردوں کی جانب سے کل 867 حملے کيے گۓ جن کے نتيجے ميں 392 ہلاکتيں ہوئيں اور 724 افراد زخمی ہوۓ۔
جب معاملہ، تعليم، سکولوں اور خاص طور پر خواتين ميں شرح تعليم ميں اضافے کی ضرورت کا ہو تو متحرک مختلف دہشت گرد گروہوں کی مشترکہ سوچ کوئ خفيہ امر نہيں ہے۔
دہشت گردوں نے اپنے الفاظ اور عملی اقدامات سے متعدد بار يہ باور کروايا ہے کہ وہ نا صرف يہ کہ حصول تعليم کے خلاف ہيں بلکہ اپنی دقيانوسی سوچ اور طرز زندگی کے ليے اسے براہراست خطرہ سمجھتے ہيں۔
خوراک کی عدم دستيابی، بھوک و افلاس اور عدل و انصاف کی پامالی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ميراث اور منطقی نتائج ہيں۔
تاہم موصل ميں داعش کی حاليہ شکست کے بعد دہشت گردی کا ايک اور تاريک پہلو ابھر کر سامنے آيا ہے اور وہ ہے سينکڑوں کی تعداد ميں بے يارومددگار یتيم بچے جو شہر کی سڑکوں پر مدد کے طلب گار ہيں۔ يہ بچے دہشت گرد گروہ کی پرتشدد کاروائيوں کے نتيجے ميں اپنے والدين، رشتہ داروں اور عزیز واقارب کو کھو چکے ہيں۔
اب جبکہ عراق کے لوگ اپنی زندگيوں کو ازسرنو شروع کر رہے ہيں تو ايک خيراتی ادارے کی جانب سے ان يتيم بچوں کی زندگیوں کو بحال کرنے کے عمل کا آغاز اجتماعی افطار ڈنر سے کيا گيا ہے۔
I don’t even know what is your purpose here anymore when even Pompeo pretty much said that Pakistan isn’t our friend in congressional hearings. Pakistan will not join any anti-China alliance not that India has fully committed to it so I don’t know what Pakistan-US relationship would be in the future.
Aside from US war profiteers / pentagon generals, everyone now is saying that we don’t have the political will to do what is necessary to win and actually make afghanistan a good country for afghans. The writing is on the wall just like South Vietnam. US really isn’t interested in using trade as a tool when they could have set up FTZs in Afghanistan and Pakistan in 2002. China even doesn’t want to invest billions in Afghanistan as they know the current setup is a lost cause.
Ironically, call what you may but it is the Chinese who are setting up FTZs in Pakistan as part of CPEC / OBOR / Silk Road that America disapproved off as a trade corridor. Perhaps it is a blessing in disguise that AfPak has been forgotten since the current administration runs on populist slogans instead of any concrete policies.