امريکی حکومت کو خطے ميں جاری تشدد کے ليے اس ليے مورد الزام قرار نہيں ديا جا سکتا کيونکہ ہمارے تو فوجی بھی زمين پر موجود نہيں ہيں۔ اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ داعش کے دہشت گردوں کی جانب سے جاری پرتشدد کاروائيوں کو روکنے کے ليے ہم يقینی طور پر لاجسٹک اور عسکری معاونت فراہم کر رہے ہيں۔ تاہم ہمارے اقدامات ان مشترکہ عالمی کوششوں کا حصہ ہيں جن ميں وسائل ميں شراکت، اينٹيلی جنس اور خطے کے تمام فريقين اور اسٹريجک اتحادوں کا اتفاق راۓ بھی شامل ہے۔
امريکی حکومت بدستور ان عالمی کوششوں کا اہم حصہ رہے گی جن کا مقصد خطے ميں اپنے اتحاديوں کو وہ وسائل اور مواقع فراہم کرنا ہيں جن کے ذريعے وہ اپنے آپ کو آئ ايس آئ ايس سے درپيش خطرات سے محفوظ رکھ سکيں
جنوری ميں پاڑا چنار حملے سے لے کر لاہور کے تازہ سانحے تک – دہشت گردوں اور پرتشدد انتہا پسندوں نے سال 2017 کے ہر مہينے ميں پاکستان کے عام شہريوں کو اپنی بربريت کا نشانہ بنايا۔
سوات سے عراق تک – کمسن طالبات ہر جگہ زير عتاب اور پرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نشانے پر۔
“یہاں سينکڑوں بلکہ ہزاروں ملالائيں موجود ہيں۔ ہميں ان لڑکيوں کی حوصلہ افزائ کرنی چاہيے اور انھيں يہ باور کروانا ہے کہ ان کی آوازوں ميں اثر موجود ہے۔”
پاکستان کی ملالہ يوسف نے اپنی بيسويں سالگرہ کے موقع پر عراق کے پناہ گزين کيمپوں ميں اپنے گھروں اور سکولوں سے دور کمسن طالبات کا دورہ کيا اور ان کی حوصلہ افزائ کی۔
داعش کے دہشت گردوں نے ميرے شوہر کو آگ ميں جھونک ديا"
انسانيت بدستور دہشت گردوں اور پرتشدد انتہا پسندوں کے جبر کا شکار ہے۔ افغانستان کے ضلع درزاب کے بے گھر شہری ان دہشت گردوں کے ہاتھوں ظلم سہنے کے بعد اپنی داستان سنا رہے ہيں۔
اگر آپ کے الزام ميں کوئ صداقت ہوتی تو پھر آپ اس حقيقت کو کيسے نظرانداز کريں گے کہ امريکہ بدستور اس اتحاد کا حصہ ہے جو اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ اس دہشت گرد تنظيم کو ختم کرنے کے ليے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے جو آپ کی دانست ميں خطے ميں امريکی مفادات کو جلا دينے کے ليے “تخليق” کی گئ ہے۔
حقائق کو درست تناطر ميں سمجھنے کے ليے کچھ اعداد وشمار پيش ہيں جو دہشت گردی کے اس فتنے اور اس کے قائدين کو ختم کرنے کے ليے ہمارے عزم اور کاوش کو اجاگر کرتے ہيں جو آپ کے الزام کے مطابق ہماری جانب سے خفيہ امداد وصول کر رہے ہيں۔
جنوری 11 2017 تک امريکہ اور اتحادی افواج نے داعش کے محفوظ ٹھکانوں پر مجموعی طور پر 17،370 فضائ حملے کيے ہيں جن ميں سے 10،850 عراق ميں اور 6،520 شام ميں کيے گۓ ہيں۔ اگر صرف امريکہ کی بات کريں تو مجموعی طور پر شام اور عراق ميں داعش کی پيش قدمی کو روکنے کے ليے 13،549 فضائ حملے کيے گۓ ہيں جن ميں سے 7،358 عراق ميں اور 6،191 شام ميں کيے گۓ ہيں۔
ديگر اتحادی ممالک کی جانب سے عراق اور شام ميں داعش کے خلاف مجموعی طور پر 3،821 فضائ حملے کيے گۓ ہيں جن ميں سے 3،492
عراق ميں اور 329 شام ميں کيے گۓ ہیں۔
دسمبر 15 2016 تک داعش کے خلاف اس مہم ميں امريکہ کے مالی اخراجات کا مجموعی تخمينہ 7۔10 بلين ڈالرز لگايا گيا ہے۔ اگست 8 2014 کو شروع کی گئ اس مہم ميں 861 دن گزرنے کے بعد يوميہ امريکی اخراجات 5۔12 ملين ڈالرز تک پہنچ گۓ ہيں۔
داعش کے خلاف جاری امريکی کاوشيں اور اس ضمن ميں امريکی اخراجات کی مزيد تفصيلات آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔
چاہے وہ القائدہ، ٹی ٹی پی، داعش يا دنيا بھر ميں کوئ بھی ايسی تنظيم ہی کيوں نا ہو جسے دہشت گرد قرار ديا جا چکا ہو، آپ ان کی اہم شخصيات اور سرکردہ قيادت کے خلاف ہماری مشترکہ کاوشوں پر ايک نظر ڈالیں تو آپ پر يہ واضح ہو جاۓ گا کہ ہم نے ان تنظيموں کی قيادت کی جانب سے اپنے کارندوں کو متحرک کرنے، منصوبہ بندی کرنے اور دنيا ميں کہيں بھی دہشت گردی کی کاروائياں کرنے کی ان کی صلاحيتوں کو ختم کرنے کے ليے ہر ممکن کوشش روا رکھی ہے۔
اگر دہشت گرد تنطيموں کے يہ ليڈر واقعی ہماری کٹھپتلياں ہيں جو اپنے “مريدوں” پر اپنے اثر کو استعمال کرتے ہوۓ ہمارے ايجنڈے کو آگے بڑھاتے ہيں تو پھر ہم مسلسل ان “اثاثوں” کو نشانہ کيوں بنا رہے ہيں؟
would yoy deny that fazalullah and many other terrorist group are guven safe havens in Afghanistan???
Do you Deny when PAK Army exert pressure on the Terrorists US led army normally vacates their posts to give breathing space to the terrorists..
Would you deny that US Army is running training camps in Tora-Bora region where terrorists being trained to attack Pakistan, China, Turkey and Saudi Arabia???
The terrorist outfit ISIS is in Tora Bora and US is providing it all kind of support it can?
Would you deny all above and would continue with your Bullshyt?