اُداسی بات کرتی ہے کسی انجان بولی میں

اُداسی بات کرتی ہے کسی انجان بولی میں
سُکوں کا پھول دل کے شاخچوں سے توڑ لیتی ہے
ہتھیلی پر سجا لاتی ہے وہ سوکھے ہوئے پتّے
رچی ہے جن کے ریشوں میں کوئی بھولی ہوئی خوشبو
لکھے ہیں جن پہ گزرے موسموں کے دل نشیں لمحے
بہت سی ان کہی باتین کہیں سے گھیر لاتی ہے
کبھی کھوئی ہوئی یادیں کہیں سے کھوج لاتی ہے
پرانے سے پرانا قفل پل میں کھول دیتی ہے

اداسی جا اترتی ہے بدن کے اُن جزیروں پر
جنھیں ویران رکھنا ہو
اداسی ٹمٹماتی ہے لہو کے اُن علاقوں مین
جنھیں تاریک رکھنا ہو
یہ جھولی بھر کے لے آتی ہے کچھ ایسے مسائل جو
کبھی حل ہو نہیں سکتے
یہ ایسے اشک لے آتی ہے آنکھوں کے کناروں تک
جنھیں ہم رو نہیں سکتے

اداسی ان گمانوں میں ہمیشہ راج کرتی ہے
جنھیں ایماں نہیں ہونا
یہ اُن دشواریوں میں جا کے اپنا گھر بناتی ہے
جنھیں آساں نہیں ہونا

یہ اُن تاروں کے افسانے لکھا کرتی ہے راتوں پر
جو اپنی کہکشاؤں سے بچھڑ کر ٹوٹ جاتے ہین
یہ ان کھوئی ہوئی راتوں کے دکھ پر بَین کرتی ہے
جنھیں صبحیں نہیں ملتیں
اداسی بات کرتی ہے کسی انجان بولی میں
مگر ہر لفظ دل میں تیر کی صورت اترتا ہے

نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حمیدہ شاہین

Re: اُداسی بات کرتی ہے کسی انجان بولی میں

buhat khoubsurat sharing

Re: اُداسی بات کرتی ہے کسی انجان بولی میں

پرانے سے پرانا قفل پل میں کھول دیتی ہے

kaisy