**
کام سارے جو تیری دید پہ ٹالے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔
دم غنیمت ہے بدن میں یہ سنبھا لے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔
دیکھیئے ساتھ نِبھاتے ہیں کہاں تک اپنا ۔ ۔ ۔
تم سے منسوب یہ کچھ رُوگ جو پالے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔
خود کو خود سے کروں اب اور کہاں تک منہا ۔ ۔ ۔
ذہن و دل تک تیرے سانچے میں تو ڈھالے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔
زیست اپنی ہے تیرے لطف و کرم پر موقوف ۔ ۔ ۔
ہم بُرے ہیں یا بھلے ۔ تیرے حوالے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔
آج خوشبو سے لڑی آئی ہیں ۔ شاید تو نے ۔ ۔ ۔
اپنے کچھ سانس ہواؤں میں اُچھالے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔
دل کو معلوم نہیں ”قیس کا انجام ۔ میاں ۔ ۔ ۔
شوق کم بخت کو سارے اُسی والےہوئے ہیں ۔ ۔ ۔
**