بے سبب اشک بہانا کیا ہے
اس طرح دل کو دکھانا کیا ہے
چاند کو یوں نہ مسلسل دیکھو
اپنی آنکھوں کو تھکانا کیا ہے
رتجگوں سے بھی ہوا کیا حاصل
نیند راتوں کی گنوانا کیا ہے
ایک پھیکی سی ہنسی ہنس کر ہی
بھید یوں دل کا چھپانا کیا ہے
کتنے موسم تھے کہ اب جا بھی چکے
اب صدا دے کے بلانا کیا ہے
جبکہ ملنی ہی نہیں منزلِ شوق
خاک رستوں کی اُڑانا کیا ہے