نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
آنکھ کا نیند سے دل چھُوٹ رہا ہو جیسے
روشنی پائی نہیں ، رات بھی باقی ہے ابھی
چاند سے رابطہ مگر ٹوٹ رہا ہو جیسے!
سُرخ بیلیں تو ستونوں میں چڑھی ہیں لیکن
کوئی آنگن کا سکوں ، لُوٹ رہا ہو جیسے
نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
آنکھ کا نیند سے دل چھُوٹ رہا ہو جیسے
روشنی پائی نہیں ، رات بھی باقی ہے ابھی
چاند سے رابطہ مگر ٹوٹ رہا ہو جیسے!
سُرخ بیلیں تو ستونوں میں چڑھی ہیں لیکن
کوئی آنگن کا سکوں ، لُوٹ رہا ہو جیسے
Re: نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
Re: نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
…![]()
Re: نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
ye kya hu raha hai bhai ye kya hu raha hai ![]()