کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیں
پھر ان سے عرض_وفا کا ارادہ رکھتے ہیں
یہی خطا ہے کہ اس گیر_و_دار میں ہم لوگ
دل_شگفتہ جبین_کشادہ رکھتے ہیں
خدا گواہ کہ اصنام سے ہے کم رغبت
صنم_گری کی تمنا زیادہ رکھتے ہیں
دکان_بادہ_فروشاں کے صحن میں عابدؔ
فرشتے خلد کا اک در کشادہ رکھتے ہیں