دل کی دل کو خبر نہیں ملتی
جب نظر سے نظر نہیں ملتی
سحر آئی ہے دن کی دھوپ لیے
اب نسیم_سحر نہیں ملتی
دل_معصوم کی وہ پہلی چوٹ
دوستوں سے نظر نہیں ملتی
جتنے لب اتنے اس کے افسانے
خبر_معتبر نہیں ملتی
ہے مقام_جنوں سے ہوش کی رہ
سب کو یہ رہ_گزر نہیں ملتی
نہیں ملاؔ پہ اس فغاں کا اثر
جس میں آہ_بشر نہیں ملتی