لوٹ آؤ
کہ دل کی وادی کا اک مسافر
کہ جس کو تم نے
رفاقتوں کی چند گھڑیاں
عنایتوں کا حقیر صدقہ
چلتے چلتے تھما دیا تھا
وہ ان کو سینے لگا کے بیٹھا
وہ ان سے دنیا بسا کے بیٹھا
وہ دامن دل پھیلا کے بیٹھا
تمہیں ہی پانے کا منتظر ہے
کہ راستہ تکتے تکتے تب سے
وہ لوٹ آنے کا منتظر ہے
لوٹ آؤ…!!!