دل کی بربادی کا کوئی سلسلہ پہلے سے تھا

دل کی بربادی کا کوئی سلسلہ پہلے سے تھا

اِس چراغِ شب پہ الطافِ ہوا پہلے سے تھا

اُس کے یوں ترکِ محّبت کا سبب ہو گا کوئی

جی نہیں یہ مانتا وہ بے وفا پہلے سے تھا

Re: دل کی بربادی کا کوئی سلسلہ پہلے سے تھا

ji nahin manta to dhoky khaty rahein