ھم بُرے ھیں کہ ھیں بھلے پھر بھی
ترے رستے میں ھیں پڑے پھر بھی
آندھیوں کا جنون تھک بھی چُکا
کتنے روشن ھیں یہ دئیے پھر بھی
اب وہ موسم رہا نا خواب رہے
کیوں لہو میں ھیں رتجگے پھر بھی
چاھے کتنی بھی احتیاط کرؤ
ٹوٹ جاتے ھیں آئینے پھر بھی
بھول جانے کی جستجو ھے مگر
یاد آتے ھیں حادثے پھر بھی
دور منزل رہی نظر سے مگر
پاس رہتے ھیں راستے پھر بھی
اب گُلابوں کا سلسلہ بھی نہیں
کیوں مہکتے ھیں آبلے پھر بھی
نفرتوں کا بھی زور کم تو نہیں
ھیں محبٌت کے سلسلے پھر بھی
زندگی کٹ گئی سفر میں بتول!
کیسے قائم ھیں فاصلے پھر بھی؟
(فاخرہ بتول)