ریت کے ذرّوں سا یوں چھنتے پھٹکتے رہنا
یہ ہی مقسوم ہے اپنا - - کہ بھٹکتے رہنا
یوں بھی بدلا ہے مقدّر - کہ شب و روز یونہی
اپنے ہاتھوں سے لکیروں کو - - جھٹکتے رہنا
تا دمِ مرگ ملے گی - - - یہ محبّت کی سزا
یوں ہی تنہائی کی سولی پہ - - لٹکتے رہنا
نہ کوئی عہد نہ امکان - - - -کہ آئے گا کوئی
بس اسی طرح ہر آہٹ پہ - - - - ٹھٹکتے رہنا
کیا خبر یوں ہی تھمے - - - گردشِ ایّام کہیں
خار بن کر یونہی - - - دامن سے اٹکتے رہنا