بابِ حیرت سے مجھے__ اِذنِ سفر ہونے کو ہے

بابِ حیرت سے مجھے__ اِذنِ سفر ہونے کو ہے
تہنیت اَے دِل کہ اَب ___ __دیوار دَر ہونے کو ہے

کھول دیں زنجیرِ دَر __حوض کو خالی کریں
زندگی کے باغ میں اب
سہ پہر ہونے کو ہے

موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دِل میں کیوں
کیا محّبت سے بہت ,خالی یہ گھر ہونے کو ہے

اک چمک سی تو نظر آئی ہے_ اپنی خاک میں
مجھ پہ بھی شاید_ توجہ کی نظر ہونے کو ہے

گمشُدہ بستی مسافر لوٹ کر آتے نہیں
معجزہ ایسا مگر
___ بارِ دگر ہونے کو ہے

رونقِ بازار __محفل کم نہیں ہے ___آج بھی
سانحہ اس شہر میں
کوئی مگر ہونے کو ہے

گھر کا سارا راستہ اس سر خوشی میں کٹ گیا
اس سے اگلے موڑ __کوئی ہمسفر ہونے کو ہے

**پروین شاکر **

Re: بابِ حیرت سے مجھے__ اِذنِ سفر ہونے کو ہے

Parveen :wub:

Re: بابِ حیرت سے مجھے__ اِذنِ سفر ہونے کو ہے

موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دِل میں کیوں
کیا محّبت سے بہت ,خالی یہ گھر ہونے کو ہے

:k:

Re: بابِ حیرت سے مجھے__ اِذنِ سفر ہونے کو ہے

aahat aajati hy pehly?

Re: بابِ حیرت سے مجھے__ اِذنِ سفر ہونے کو ہے

:hmmm:…Kia chakkar ho sakta hy…?:5:
Naik Perveen…?