بابِ حیرت سے مجھے__ اِذنِ سفر ہونے کو ہے
تہنیت اَے دِل کہ اَب ___ __دیوار دَر ہونے کو ہے
کھول دیں زنجیرِ دَر __حوض کو خالی کریں
زندگی کے باغ میں اب سہ پہر ہونے کو ہے
موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دِل میں کیوں
کیا محّبت سے بہت ,خالی یہ گھر ہونے کو ہے
اک چمک سی تو نظر آئی ہے_ اپنی خاک میں
مجھ پہ بھی شاید_ توجہ کی نظر ہونے کو ہے
گمشُدہ بستی مسافر لوٹ کر آتے نہیں
معجزہ ایسا مگر___ بارِ دگر ہونے کو ہے
رونقِ بازار __محفل کم نہیں ہے ___آج بھی
سانحہ اس شہر میں کوئی مگر ہونے کو ہے
گھر کا سارا راستہ اس سر خوشی میں کٹ گیا
اس سے اگلے موڑ __کوئی ہمسفر ہونے کو ہے
**پروین شاکر **