غزل '' { ہم دیوانے ہو چلے ہیں

’ غزل ‘’ { ہم دیوانے ہو چلے ہیں }




اس غمِ سیاہ رات میں ہم دیوانے ہو چلے ہیں
ایسی بسر و اوقات میں ہم دیوانے ہو چلے ہیں



ہر شام گزرتی در سےکسی جنازے کی طرح
ماتم کےان’ انتظامات میں ہم دیوانےہوچلے ہیں



صحن کی چنبیلی پہ لٹکی ہیں سسکیاں ہزار
بہارِکی اس’ سوغات میں ہم دیوانے ہوچلےہیں



بکھری ہیں کتابیں گھر میں لاشوں کی طرح
اجڑی اس 'حیات میں ہم دیوانے ہو چلے ہیں



کھڑکی سے آئے سنسناتی ہوئی ہوک کوئی
دہلاتے ان’ لمحات میں ہم دیوانے ہو چلے ہیں



چھت پہ گریں بجلیاں آہ و زاری کی طرح
ان قدرتی ’ آفات میں ہم دیوانے ہو چلے ہیں



ہوتے ہیں وفادار بھی زمانےکو رسوا نہ کرو
انکی ان’ سفارشات میں ہم دیوانے ہوچلے ہیں



سناٹے ملکیّت اپنی درد دل کی تجوری میں
اپنے ان ’ اثاثات میں ہم دیوانے ہو چلے ہیں



تجھ پہ الزام کہ رلاتی ہے قلم تیری’’ شاہ جی’’
ان معصوم’ تہمات میں ہم دیوانے ہو چلے ہیں


*** ‘’ یوسف شاہ ‘’***

Re: غزل '' { ہم دیوانے ہو چلے ہیں

ہر شام گزرتی در سےکسی جنازے کی طرح
***ماتم کےان' انتظامات میں ہم دیوانےہوچلے ہیں


Sunday ki shaam to waqai aisi hoti hai.****