کہیں اِیمان کہِیں جسم کو بیچا ہے "امِین"

کون کہتا ہے اُسے دِل سے نکالے ہوئے ہیں

اِک یہی روگ تو ہم شوق سے پالے ہوئے ہیں

میں نے سوچا تھا جلاووںگا محبّت کے چراغ

اِس کشاکش میں مگر ہاتھ ہی کالے ہوئے ہیں

اے خُداوند! میرے یار سلامت رکھنا

میں نے یہ سانپ بڑے ناز سے پالے ہوئے ہیں

اِن چراغوں نے اندھیرے ہی دیئے ہم کو سدا

خود جلے ہیں تو کہِیں گھر میں اُجالے ہوئے ہیں

سالہا سال تُجھے ورد میں رکھا مِیں نے

میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کے چھالے ہوئے ہیں

کیسے آُمید کروں مُجھ کو سہارا دینگے

بوجھ اپنا جو میرے کاندھے پہ ڈالے ہوئے ہیں

کہیں اِیمان کہِیں جسم کو بیچا ہے “امِین”

تب کہیں جا کے میسّر دو نوالے ہوئے ہیں

Re: کہیں اِیمان کہِیں جسم کو بیچا ہے "امِین"

main ne yeh saanp bary naaz se palay hain

Re: کہیں اِیمان کہِیں جسم کو بیچا ہے “امِین”

اے خُداوند! میرے یار سلامت رکھنا

میں نے یہ سانپ بڑے ناز سے پالے ہوئے ہیں

:eek: sach hi hai

Re: کہیں اِیمان کہِیں جسم کو بیچا ہے “امِین”

Kya baat kahi hai :lajawab:

MAe apney ghar mae chun chun ke shairy likh ke painting lagun gi :mad2:

Re: کہیں اِیمان کہِیں جسم کو بیچا ہے “امِین”

iss shair ke sath unki tasweer mat laga dena :hehe:

Re: کہیں اِیمان کہِیں جسم کو بیچا ہے “امِین”

wese idea bura nahi hai :hehe: