نہ جانے کون سی دنیا میں کھوئی ذات مری

نہ جانے کون سی دنیا میں کھوئی ذات مری
نہ دن ہی دن رہا میرا نہ رات رات مری

خدا کرے کہ یہ دیوانگی رہے قائم
یہی شناخت ہے میری یہی حیات مری

مجے پتہ ہے کہ معشوق میرا ضدی ہے
میں یوں مناؤں گا مانے گا وہ بھی بات مری

ہے دوست حق یہ ترا عیب ڈھونڈنا مجھ میں
تجھے نظر کہاں آ پائیں گی صفات مری

ہر اک جہت ہے جہت راہِ استقامت کی
خدا کا شکر کہ ہیں انگنت جہات مری

خلوص چیز ہے کیا جانتا نہیں جاوید
کہاں سے ہوگی بتا تو ہی پھر نجات مری

ڈاکٹر جاوید جمیل

Re: نہ جانے کون سی دنیا میں کھوئی ذات مری

مجے پتہ ہے کہ معشوق میرا ضدی ہے
میں یوں مناؤں گا مانے گا وہ بھی بات مری

mashooq to hote hain zidi hain

Re: نہ جانے کون سی دنیا میں کھوئی ذات مری

:(.........so to hy