زندگی سے نظر ملاؤ کبھی

زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
ہار کے بعد مسکراؤ کبھی

ترکِ اُلفت کے بعد اُمیدِ وفا
ریت پر چل سکی ہے ناؤ کبھی

اب جفا کی صراحتیں بیکار
بات سے بھر سکا ہے گھاؤ کبھی

شاخ سے موجِ گُل تھمی ہے کہیں
ہاتھ سے رک سکا بہاؤ کبھی

اندھے ذہنوں سے سوچنے والو
حرف میں روشنی ملاؤ کبھی

بارشیں کیا زمیں کے دُکھ بانٹیں
آنسوؤں سے بجھا الاؤ کبھی

اپنے اسپین کی خبر رکھنا
کشتیاں تم اگر جلاؤ کبھی

پروین شاکر

Re: زندگی سے نظر ملاؤ کبھی

ye ghazal aajkal kuch ziada hi suni jane lagi hai

Re: زندگی سے نظر ملاؤ کبھی

Acha.............Aysa Q hy?

Re: زندگی سے نظر ملاؤ کبھی

pata nahin. ek mah pehle maine share karai, phir tarash ne, ab aap ne

Re: زندگی سے نظر ملاؤ کبھی

:)