دوستی طریقے سے، دشمنی طریقے سے
زیست کیوں نہیں کرتا آدمی طریقے سے؟
ساتھ ساتھ چلنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں
عمر بھر کی نبھتی ہے ہمرہی طریقے سے
ایک ڈھنگ ہوتا ہے اپنی بات کہنے کا
بات کیوں نہیں کرتے آپ بھی طریقے سے
کیا عجب کوئی رستہ صلح کا نکل آئے
ذکر چھیڑ دیکھیں گے ہم کبھی طریقے سے
اِک شکوہ سا اُس کی ذات میں در آیا ہے
ایسے اُس نے اپنائی سادگی طریقے سے
لوگ راہ پر آتے ثانیوں میں دیکھے ہیں
جب کسی نے برتی ہے بے رخی طریقے سے
ہار درد مندوں کی سب کی ہار ہوتی ہے
کوئی اُس کو سمجھائے یہ کسی طریقے سے
بات آپ کی اب بھی تشنۂ وضاحت ہے
ڈالیے نعیم اِس پر روشنی طریقے سے
سید ضیاءالدین نعیم