ھم یہیں آس پاس تھے لیکن۔
ھم تیرے التفات کو ترسے۔
عمر بھر گفتگو رہی لیکن۔
پیار کی ایک بات کو ترسے۔
یہ شیشہء دل مسکن تیرا۔
جو کنکر سے بھی ٹوٹ گیا۔
اب کیا حاصل، اب کیا رونا۔
جب ساتھ ھمارا چھوٹ گیا۔
لفظوں کے نوکیلے کنکر سے۔
اب اور کسےتم توڑوگے۔
یہ تن من کرچی کرچی ھے۔
بکھرے شیشے کیا جوڑوگے۔
خواھش تھی اک چھوٹی سی۔
تیرے آنگن کی،تیری جنت کی۔
تیرے پیار کی ٹھنڈی چھاؤں کی۔
اس پیاسے دل کی منت تھی۔
یہ ریشم کا کوئی تار نہ تھا۔
تھا کچا دھاگہ ٹوٹ گیا۔
جب دل ھی ریزہ ریزہ ھے۔
پھر کیا جو دامن چھوٹ گیا۔
جو تیرے ھاتھ کے کنکر تھے۔
وہ میری روح پہ پتھر تھے۔
اک عمر تیرے سنگ کیا چلتے۔
دو چار قدم بھی دوبھر تھے۔
تھے تیری محبت کے قابل۔
یا کہ قدموں کی ٹھوکر تھے۔
اب ان باتوں سے کیا حاصل۔
ھم ھیرا تھے یا کنکر تھے۔
یہ دل تھا نازک شیشے سا۔
اور تیرے ھاتھ میں کنکر تھے۔
میرے کرچی کرچی من میں۔
جو آن لگے وہ پتھر تھے۔