***‘’ غزل ‘’
چلو یوں کریں کہ ہم پھر سے بچھڑ جاتے ہیں
تم جینے کی آرزو کرو ہم پھر اجڑ جاتے ہیں
لوگ کہ خنجر سےہمارے قتل کے درپا ہیں
اک ہم ہیں کہ انکے ارادّوں پہ مر جاتے ہیں
جھوٹ کہہ کےدل میں اترنےکا انداز نہیں اپنا
سّچ کہیں تو بھی سب کےدل سےاتر جاتےہیں
سنبھال تو لیتے ہیں بہّار کا ہرگل کسی کیلئے
پہلےخزاںّ چلی آئے تو حالات بگڑ جاتےہیں
اب کوئی نا کرےہم سے بات جینے مرنے کی
وقت آئے تو شناساء پاس سے گزر جاتے ہیں
اب ایسے آدمی کو’دیوانہ’ نا کہیّے تو کیا کہیّے
جس کو خبرنہیں کہ شام وسحرّ کدِھر جاتے ہیں
سیاہ راتیں جن کو چھپا لیتی ہیں اپنی باہوّں میں
وہ چہرے صبع کےاجالوں میں نکِھرجاتے ہیں
تنہا راتیں آنکھوں میں سرخی کیوں نہیں’شاہ جی’
تم کو معلوم ہے ایسی حالت میں کدِھر جاتے ہیں
‘’ یوسف شاہ ‘’***