***یا الہّی تیرے غضبوں پہ اک سوال ہو جائے
روزِ حشر تو نہیں مگر ایسا حال ہو جائے
لہّو کی چھینٹیں ہیں ہر طرف اس شاہکار پہ
کچھ شبہ نہیں کہ وہ مصّور لازوال ہو جائے
زندگی گرگزرے گی ہر پل یونہی تیرے بغیر
زندگی تجھے زندگی کا کچھ تو ملال ہو جائے
تجھ کو بھی کوئی تجھ سا ملے دل دکھانے والا
تیری زندگی میں بھی کوئی ایسا کمال ہوجائے
وہ نہیں تو اسکا تصوّر ہی دبے پاّوں چلا آئے
اک لمحہ ہی سہی تیرا ہجر وصال ہو جائے
لرز جائیں سب لوگ چہرہ دیکھ کر تیرا
سنگ دِلی کی تو سب کے لئے مثال ہو جائے
آّو کہ منا لیں ہجر کو اکِ نئے جنم کی طرح
چلے آنا جب بچھڑے ہوئے اکِ سال ہوجائے
نیندیں یوں حرام ہیں کہ کیا بتائیں ''شاہ جی ‘’
‘مولا’ کسی پہ تو یہ عشّق حلال ہو جائے***