کچھ صحیفے جَلے پڑے ہُوئے تھے
ساتھ دِل بھی بُجھے پڑے ہُوئے تھے
طاق میں ’ مَیں تھا اَور میرے قریب
چند ٹُوٹے دیے پڑے ہُوئے تھے
جانے توڑے تھے کِس نے ؟ کس کے لیے ؟
پُھول میرے گلے پڑے ہُوئے تھے
ہجر میں بھی ہم ایک دُوسرے کے
آمنے سامنے پڑے ہُوئے تھے
کاغذی لوگ ’ کاغذی رشتے
کاغذوں میں دَبے پڑے ہُوئے تھے
عُمر تدفین میں بسر کر دی
لوگ مُجھ میں مَرے پڑے ہوئے تھے
Re: کاغذی لوگ ’ کاغذی رشتے
nice :k:
who is the poet?
Nain
3
Re: کاغذی لوگ ’ کاغذی رشتے
Loog mujh mae marey parey huye they :k:
kagazi rishtey matlab ??
fari007
4
Re: کاغذی لوگ ' کاغذی رشتے
@muqawwee123 poet ka mujhe bhi nahi pata .....
aur kagzi rishtey matlib dolat ke tarzoo pr banaye jane walaye rishtey