وہی خوابیدہ خاموشی وہی تاریک تنہائی

وہی خوابیدہ خاموشی وہی تاریک تنہائی
تمہیں پا کر بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی

اگر جاں سے گزر جاؤں تو میں اوپر ابھر آؤں
کہ لاشوں کو اگل دیتی ہے دریاوں کی گہرائی

کھڑا ہے دشتِ ہستی میں اگرچہ نخلِ جاں، لیکن
گلِ گویائی باقی ہے نہ کوئی برگِ بینائی

محبت میں بھی دل والے سیاست کر گئے اسلم
گلے میں ہار ڈالے، پاؤں میں زنجیر پہنائی

اسلم کولسری

Re: وہی خوابیدہ خاموشی وہی تاریک تنہائی

اگر جاں سے گزر جاؤں تو میں اوپر ابھر آؤں
کہ لاشوں کو اگل دیتی ہے دریاوں کی گہرائی

aisa hai kia? maine suna tha samandar apne ander murde nahin rakhta.. kinare pe patakh deta hai

Re: وہی خوابیدہ خاموشی وہی تاریک تنہائی

:cb: