enter10
1
گھاٹے میں جانے والی دُکاں سے الگ ہوا
میں ایک روز تیرے جہاں سے الگ ہوا
بس یاد رہ گیا تھا مجھے عشق ،عشق ،عشق
پھر یہ بھی لفظ میری زباں سے الگ ہوا
مت پوچھ کون کون ھے اس کا ہدف یہاں
یہ دیکھ کیسے تیر کماں سے الگ ہوا
آنکھوں سے اشک اشک ٹپکتا ہے رات دن
کب ایک شخص میری فُغاں سے الگ ہوا
دُنیا و آخرت سے مجھے مت ڈرائیے
میں کاروبارِ سود و زیاں سے الگ ہوا
دل کون سے مقام پہ ہارا ہے اپنی جان
یہ آخری سپاہی کہاں سے الگ ہوا
قمر رضا شہزاد
Re: گھاٹے میں جانے والی دُکاں سے الگ ہوا
sb sad poetry kyun share krtay ho 
enter10
3
Re: گھاٹے میں جانے والی دُکاں سے الگ ہوا
:(…
Aapko Mazahiya Shairi pasand hy…?
Re: گھاٹے میں جانے والی دُکاں سے الگ ہوا
nhi sad he pasand hai 
enter10
5
Re: گھاٹے میں جانے والی دُکاں سے الگ ہوا
…mujhay bhi
Re: گھاٹے میں جانے والی دُکاں سے الگ ہوا
بس یاد رہ گیا تھا مجھے عشق ،عشق ،عشق
پھر یہ بھی لفظ میری زباں سے الگ ہوا
Ishq, Ishq, Ishq 