ہاتھ اُٹھ گئے ہیں آج تو پھر اے دل ِ سخی
جس جس نے بد دعا دی اُسی کے لئے دعا
اِمکاں قبولیت کی گھڑی کا تھا اِس لئے
مانگی نہیں کسی نے کسی کے لئے دعا
لگتا ہے مجھ کو اے بنی آدم زمین پر
یہ آخری صدی ہے صدی کے لئے دعا
کیا راستے کے بیچ مسافر نہیں کوئی
کوئی نہیں تو راستے ہی کے لئے دعا
اے لب تک آرزو کو نہ لاتے ہوئے بزرگ
اپنے لئے نہیں تو کسی کے لئے دعا
اب آدمی بنانے لگا ہے خود آدمی
اس کوزہ گر کی کوزہ گری کے لئے دعا
افضل خان