جو چہرہ بے دھنک دیکھو اُسے رنگوں سے بھر ڈال&#1

کہامشکل میں رہتا ہوں
کہا آسان کر ڈالو!
کہ جس کی چاہ زیادہ ہو
وہی قربان کر ڈالو!

کہا بے قلب ہیں آہیں
کہا اُس سے تڑپ مانگو!
اُٹھو تاریکیءِ شب میں
ذرا خونِ جگر ڈالو!

کہا رازِ سُکوں کیا ہے؟
کہا لوگوں کے دکھ بانٹو!
جو چہرہ بے دھنک دیکھو
اُسے رنگوں سے بھر ڈالو!

Re: جو چہرہ بے دھنک دیکھو اُسے رنگوں سے بھر ڈال

kis ne yeh sab kuch kaha

Re: جو چہرہ بے دھنک دیکھو اُسے رنگوں سے بھر ڈال

Nice.......