گلاب چہرے پہ مسکراہٹ

گلاب چہرے پہ مسکراہٹ](Zahid Shah's Poetry: گلاب چہرے پہ مسکراہٹ)

گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے
وہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سے
سہیلیوں کو لئے اترتی
تو ایسا لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہو
کچھ اس تیقن سے بات کرتی تھی جیسے دنیا
اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو
وہ اپنے راستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتی
تمہارے جیسے بہت سے لڑکوں سے میں یہ باتیں
بہت سے برسوں سے سن رہی ہوں
میں ساحلوں کی ہوا ہوں نیلے سمندروں کے لئے بنی ہوں
وہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکی
جب راہ چلتی تو اسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہو
وہ کل ملی تو اس طرح تھی
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے ، گلاب چہرے پی مسکراہٹ
کے جیسے چاندی پگھل ری ہو
مگر وہ بولی تو اس کے لہجے میں وہ تھکن تھی
کے جیسے صدیوں سے دشت ظلمت میں چل رہی ہو

شاعر : امجد اسلام امجد

Re: گلاب چہرے پہ مسکراہٹ

college ki seeRhiyan agar dil main utarti thi.. to phir bhangi se le kar chokidar sabhi utarte honge

Re: گلاب چہرے پہ مسکراہٹ

amjad ne perh liya to khdkashi ker lengy

Re: گلاب چہرے پہ مسکراہٹ

nahin unka sense of humor itna gaya guzra nahin