گلے ہزار سہی، حد سے ہم بڑھیں گے نہیں

گلے ہزار سہی، حد سے ہم بڑھیں گے نہیں
ہے کوئی بات مگر آپ سے کہیں گے نہیں

ہم اس لڑائی کو شرطِ ادب سمجھتے ہیں
وہ سامنے بھی اگر آ گیا، ملیں گے نہیں

جو بات دل میں ہے، خود اپنے کان میں کہہ لے
یہ گفتگو در و دیوار تو سنیں گے نہیں

جہاں میں کوئی بھی شے بے سبب نہیں ہوتی
سبب کوئی بھی ہو، انکار ہم سنیں گے نہیں

عجب نہیں کہ اسی بات پر لڑائی ہو
معاہدہ یہ ہوا ہے کہ اب لڑیں گے نہیں

کسی بھی خوف سے کیوں چھوڑ دیں تری قربت
کہیں بھی جائیں، اس الزام سے بچیں گے نہیں

جو ہم نے دیکھا ہے لفظوں میں کیسے آئے گا
جو نقش دل میں ہیں، وہ ریت پر بنیں گے نہیں

ہوا کے ساتھ لپکتی ہے تیرگی شہزاد
چراغ ہوں بھی تو اس رات میں جلیں گے نہیں

شہزاد احمد

Re: گلے ہزار سہی، حد سے ہم بڑھیں گے نہیں

جو بات دل میں ہے، خود اپنے کان میں کہہ لے
یہ گفتگو در و دیوار تو سنیں گے نہیں

itny bary kan GADHE k hoty hein:cb:
jo mu tak puhanch jain

Re: گلے ہزار سہی، حد سے ہم بڑھیں گے نہیں

Haal ayesaa nahi k tum se kahe
Aik jagreh nahi k tum se kahe

saab sunte ha aur saab chup haa
koi kehta nahi k tum se kahe ......

Re: گلے ہزار سہی، حد سے ہم بڑھیں گے نہیں

جو بات دل میں ہے، خود اپنے کان میں کہہ لے
یہ گفتگو در و دیوار تو سنیں گے نہیں

pagal na sahi deewana sahi