دہر میں زندہ ابھی نمرود کا ہمزاد ہے
امتحاں میں اب بھی ابراہیمؑ کی اولاد ہے
سب حقائق مجھ سے بھی پہلے کہیں موجود تھے
میں سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ مری ایجاد ہے
آج بھی مرہونِ منت ہے “سہاروں” کا ادیب
کیا عجوبہ ہے کہ خالق سے بڑا نقاد ہے
ابتداءً دل کی گہرائی میں اترا تھا کبھی
اب زبان و لب پہ ہی اسلام زندہ باد ہے
اور کچھ بتلاتے ہیں اعمال ہم سب کے مگر
عظمتِ رفتہ کا ہم سب کو ترانہ یاد ہے
ایسا لگتا ہے کہ شاید ہو گیا قیدی فرار
اب تو رمضانوں میں بھی ابلیسیت آزاد ہے
فریاد آزر