ہر دم کی کشمکش سے نکل، راستہ بدل
اب اور ان کے ساتھ نہ چل، راستہ بدل
یہ خلفشارِ ذہن، یہ خد شے، یہ حجتیں
ان سب کا بس ہے ایک ہی حل، راستہ بدل
نخوت پسند لوگوں کو چھوڑ ان کے حال پر
وقت ان کے خود نکالے گا بل، راستہ بدل
سوچوں میں جن کی تازہ ہوا کا گزر نہیں
کر دیں گے تیرا ذہن بھی شل، راستہ بدل
یہ تیری زندگی ہے، گزار اپنے ڈھنگ سے
سانچے میں دوسروں کے نہ ڈھل، راستہ بدل
تو جن کا ہم قدم ہے، یہ بے مہر لوگ ہیں
ہوں گے ترے یہ آج نہ کل، راستہ بدل
نقصان دے گا تجھ کو تذبذب بہت نعیم
تاخیر کر نہ ایک بھی پل، راستہ بدل
ضیاء الدین نعیم