یہ خموشی اگر بنی آواز

**ایک پرانی غزل آپ احباب کے ذوقِ مطالعہ کی نذر
**
یہ خموشی اگر بنی آواز

ہو گی لاریب، تیری ہی آواز

بن گئی دل کی خامشی، آواز

یا تعاقب میں ہے کوئی آواز

آئنہ خانہءِ حیات میں دوست

کون سنتا ہے عکس کی آواز

آہ بن کر لبوں پہ ٹوٹ گئی

دل سے اٹھی تھی جو دبی آواز

شب مجھے خواب کے جزیروں سے

دے رہی تھی کوئی پری آواز

آج بھی یاد کے دریچوں میں

گونجتی ہے وہ مدبھری آواز

وصل کی رات میرے کانوں میں

رس عجب گھولتی رہی آواز

میں نے اس سے کہا کہ چپ ہو جا

پھر سنائی نہ دی کوئی آواز

میں جسے چھوڑ کر چلا آیا

دے رہی ہے وہ زندگی آواز

مضطرب کر کے میرے دل کو فصیح

کن خلاؤں میں جا چھپی آواز

**
شاہیں فصیح ربانی
**