تم ہم سے ہم غم سے ملے غم کی صورت
سب بدلا مگر نہ بدلی کبھی غم کی صورت
کپکپاتے ہونٹوں سے پوچھ حرفِ دعا کیا ہے
ہاتھوں پہ چہرہ تیرا لکیریں غم کی صورت
بٹ گیا آئینہ دو ٹکڑوں میں برسوں کے بعد
*** کل شام جو دیکھی تھی ہم نے غم کی صورت***
اٹھا لیے تیری خاطر اشک جو زمین پہ گرے
تم نے دیکھی نہ دیکھو گے کبھی غم کی صورت
کچی دیوار تلے رکھ چھوڑیں تھیں خوشیاں ہم نے
تیز آندھیوں نے دکھا دی ہےغم کی صورت
زرّد پتے پہچان جاتے ہیں دور سے آہٹ اپنی
خزاں لپٹ جاتی ہے آشنا بن کے غم کی صورت
جبرِ مسلسل کے بیان کا حوصلہ تو کرو ’ ہمدم ’
لفظ خودبخود ہی ڈھل جائیں گے غم کی صورت
دو گز زمیں کے اوپر کچھ تو کرو ایسا ‘‘شاہ جی’’
دو گز زمیں کے نیچے نہ ملے غم کی صورت