اپنے اندر سے رُونما ہوا ہوں
میں کڑی قید سے رہا ہوا ہوں
مرحلہ وار ربط ٹُو ٹا ہے
میں بتدریج بے وفا ہوا ہوں
کاٹ کر پھینک دے وہ کب جانے؟
ایک ناخن ہوں اور بڑھا ہوا ہوں
ایک ٹُکڑا تھا میں زمیں کا فقط
وہ چلا ہے تو راستہ ہوا ہوں
جس میں خود چھید کر رہے ہیں سبھی
ایسی کشتی کا ناخُدا ہوا ہوں
وقت کچھ چاہیئے سنبھلنے کو
اُس سے پہلی دفعہ جُدا ہوا ہوں
سانس لینے میں ہے جو دشواری
ایک پتھر تلے دبا ہوا ہوں
حُسن کی بارگاہ میں خاور
ایک سجدہ ہوں اور ادا ہوا ہوں
خاور اسد